Thursday, March 21, 2019

بلوچوں کو کبھی کسی نے حقوق دینا دور کی بات سوبا تک نہیں صرف جاگیرداروں کو خرید کر پورے علاقے کو گروی رکھا ہے


کسی نے پوچھا بلوچوں کو اپنے حقوق کیوں نہیں مل رہے آخر ایسی کیا بات ہے جسکی وجہ سے بلوچ عوام کو اس قدر نظر انداز کیا جارہا ہے.

سب سے بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ بلوچ کی اکثر آبادی اس بات سے ہی نابلد ہے کہ حقوق کہتے کسے ہیں چند لوگ سنی سنائی باتوں میں آکر حقوق کی بات تو کرتے ہیں کہ ہمارے بھی کچھ حقوق ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے حقوق ہیں کیا ؟ ہمیں کب ، کیسے اور کن حقوق کا مطالبہ کرنا چاہیے. یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے حقوق نہیں مل پاتے.اب آتے ہیں  سوال کی طرف ، 
          "بلوچوں کو اپنے حقوق کیوں نہیں مل رہے ؟

اگر آپ اس سوال پر غور کریں تو آپ کو بہت کچھ سمجھ آجائے گا اب یہی سوال مگر دوسرے انداز میں کیا جائے گا ذرا غور کرنا
    " بلوچ عوام اپنے حقوق کیوں نہیں لے سکتی؟

اصل بات تو یہ ہے حقوق دیے نہیں جاتے لیے جاتے ہیں بہت مشکل سے ایسے لوگ ملیں گے جو حقوق کو امانت سمجھ کر خود دینے پہنچ جاتے ہیں مگر اکثریت حقوق دیتی نہیں ، جیسے کسی شخص کے پاس دکاندار کےغلطی سے 200 روپے زیادہ آجائیں تو بہت ہی کم لوگ ہونگے وہ 200 روپے جاکر واپس کردیں گے اکثریت تو بہت خوش ہوتی ہے کہ چلو کام بھی ہوگیا 200 بھی بچ گئے .. یہی حال ہے ہمارے حکمرانوں کا بھی عوام کےحقوق  دیکھ کر انکی بانچھیں کھل جاتی ہیں خوشی سے لاریں بہنے لگتی ہیں کہ آج جیب گرم ہونے کا موقع مل گیا.

معذرت کے ساتھ جو نام نہاد بڑے بڑے لوگ حقوق کے علمبردار ہیں وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ یہ اپنے حقوق لینے کیلئے اکھٹے ہوجائیں وہ کبھی بھی عوام کو حقیقت نہیں بتائیں گے کہ تمہارا آئینی حق کیا ہے اور حقوق لینے کا قانونی طریقہ کیا ہے. عوام کی اکثریت تو بچاری اپنے حقوق تک نہیں جانتی ،، کچھ دوست میری بات سے اختلاف کریں گے ان سے صرف اتنا کہنا ہے آپ ان نام نہاد حقوق کے علمبرداروں سے جاکر ایک سوال تو کریں کہ اربوں کھربوں کے مالک ہونے کے باوجود ہمارے لیے تعلیمی شعور کا کوئی کام تو دکھائیں آپ نے عوام کو تعلیمی شعور دینے کیلئے کیا کچھ کیا ہے ؟ اور کچھ نہ دیتے کم از کم ہمیں تعلیم تو دیتے تاکہ ہمیں شعور تو آتا کہ ہمارے حقوق کیا ہیں مگر وہ ایسا کیوں کرتے وہ یہ کیوں چاہیں گے کہ ہماری چودھراہٹ ختم ہو اگر ہم نے اپنی عوام کو شعور دیا تو ہمیں سائیں سائیں کون کہے گا ہمارے نعرے لگانے کیلئے اپنا وقت برباد کون کرے گا.

حقوق ملا نہیں کرتے حقوق حاصل کیے جاتے ہیں چھینے جاتے ہیں اور چھننے کیلئے متحد ہوکر قدم سے قدم ملا کر چلنا پڑتا ہے جب تک ِ پاکستان کے باشندے بلوچ ، پٹھان ، پنجابی، سندھی وغیرہ کی بجائے عوامِ پاکستان نہیں بن جاتے تب تک حقوق ملنا تو دور کی بات حقوق لینا بھی مشکل ہے..

تمہارا اتحاد تمہاری قومیت کیلئے خطرہ نہیں مگر تمہاری بھوک ، جہالت تمہاری بدامنی تمہاری بربادی ہے. جب تعلیم ہوگی امن ہوگا بھوک مٹ جائے گی تو تمہارے کلچر تمہاری ثقافت تمہاری پہچان زندہ نہیں بلکہ پھلے پھولے گی. بلوچ کسی پٹھان کا دشمن ہے نہ پٹھان کسی بلوچ کا اور نہ یہ دونوں کسی پنجابی و سندھی کے دشمن ہیں. تمہارے دشمن بھوک ، جہالت اور کرپٹ حکمران ہیں

No comments:

ڈیرہ غازی خان بارات میں پیسوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون بھی لٹا دیئے گئے

ڈی جی خان ، بارات میں پیسوں کے ساتھ موبائل فون کی بارش کر دی باراتیوں سمیت راہ گیر بھی پیسے اور موبائل فون پکڑنے کی کوشش میں لگ گئے ڈیر...