Friday, May 17, 2019

راجن جیکب ڈی جی خان بلوچستان بلوچستان ڈیرہ غازی خان تاریخ کے سنہرے الفاظ میں

ڈیرہ غازی خان کی دھرتی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے مشہور رہی ہے، پندرہویں 15 صدی عیسوی میں بلوچ قبائل نے اس دھرتی کو اپنا مستقر بنایا۔ ایک ممتاز بلوچ سردار میر حاجی خان میرانی نے اپنے لاڈلے بیٹے غازی خان کے نام پر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر ڈیرہ غازی خان کی بنیاد رکھی۔ 1887 میں ڈیرہ غازی خان دریائے سندھ کے کٹاوُ کی لپیٹ میں آگیا۔ اس وقت یہ شہر موجودہ مقام سے 15 کلومیٹر مشرق میں واقع تھا۔ ڈیرہ کا لفظ فارسی سے نکلا ہے جس کے معنی رہائش گاہ ہے۔ تاہم بلوچ ثقافت میں ڈیرہ کو قیام گاہ کے ساتھ ساتھ مہمان خانہ یعنی وساخ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا جابضلعڈیرہ غازی خان قدیم شہر کی بنیاد1474نئے شہر کی بنیاد رکھی ہے
محل وقوع کے لحاظ سے ڈیرہ غازی خان ملک کے چاروں صوبوں کے وسط میں واقع ہے، اس کے مغرب میں کوہ سلیمان کا بلند و بالا سلسلہ ہے، شمال میں تھل اور مشرق میں دریائے سندہ ٹھاٹھیں مار رہا ہے، طبقات الارض کے حوالے سے یہ خطہ پہاڑی، دامانی، میدانی اور دریائی علاقوں پر مشتمل ہے، آب و ہوا کے لحاظ سے سردیوں میں سرد اور گرمیوں میں گرم مربوط خطہ ہے۔
علاقے کے رہائشیوں کی اکثریت بلوچی زبان بولتی ہے جبکہ کچھ اربن ایریا شہر کے وسط میں بلوچی  کے ساتھ ساتھ  جاٹکی ملتانی ریاستی جسے ابھی سرائیکی زبان کہتے ہیں یعنی سرائیکی زبان بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے، لغاری علیانی ، کھوسہ، مزاری،لنڈ ، گورچانی، کیھتران، بزدار اور قیصرانی یہاں کے تمندار ہیں، بلوچ قبیلوں کی یہ تقسیم انگریز حکمرانوں نے کی، انہوں نے قبائلی سرداروں کو اختیارات دیے۔ عدلیہ کا کام جرگے نے سنبھالا جس کی نشتیں ڈیرہ غازی خان کے صحت افزاء مقام فورٹ منرو کے مقام پر ہوتی ہیں جو سطح سمندرسے 6470 فٹ بلند ہے۔ انتظامیہ کے لیے بارڈر ملٹری پولیس بنائی گئی ہے جو انہی قبائلی سرداروں کی منتخب کردہ ہوتی ہے۔  یہ دریائے سندہ بلوچستان آخری بارڈر ہوا کرتی تھی جب ون یونٹ لگا تو تمام تر صوبوں کو ختم کردیا گیا
بہاولپور بھی ایک صوبہ ہوا کرتا تھا جب قوم پرستوں نے تحریک چلایا تو بہت سے ظلم اور قتل و غارت کے بعد تمام صوبوں کو بحال کر دیا جا سوائے صوبہ بہاولپور کا ۔۔
اور کچھ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ غازیخان راجن پور کو پنجاب میں ملا دیا اور جیکب آباد کو سندہ میں شامل کردیا  مال مفت دل بے رحم والی بات ہوئی ہے
اب جبکہ ایک آواز اٹھی ہے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی بحالی کا تو ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے بلوچوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم اپنے علاقے کو تاریخی اور ثقافتی بنیاد پر بلوچستان میں ضم کرنے کا تحریک چلائیں گے تمام بلوچ تمنداران سے گزارش ہے کہ ہمارا ساتھ دیں اگر پنجاب کی تقسیم  ضروری ہے تو ہمارے علاقوں کو بلوچستان میں شامل کیا جائے تمام اہلیان ڈیرہ غازی کا اور راجنپور والوں کو چاہئے کہ ہمارے تحریک کے ساتھ دیں
من جانب اہلیان ڈیرہ راجن پور

No comments:

ڈیرہ غازی خان بارات میں پیسوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون بھی لٹا دیئے گئے

ڈی جی خان ، بارات میں پیسوں کے ساتھ موبائل فون کی بارش کر دی باراتیوں سمیت راہ گیر بھی پیسے اور موبائل فون پکڑنے کی کوشش میں لگ گئے ڈیر...