انصاف کا طلب گار عدالتی مجرم اور دہشت گرد 😭😭۔
خبر یہ کہ موجودہ چیف جسنٹس آف پاکستان محترم آصف سیعد کھوسہ کے آبائی شہر اور انکے مادر علمی کے شہر ڈی جی خان کے سول لائن تھانے میں موجود ساٹھ سالہ باریش یہ بزرگ جو منہ کعبہ شریف کی طرف کیے تسبیح ہاتھ میں لیے ورد وظیفہ پڑھ رہے ہیں کوئی پیشہ ور مجرم ہے نہ کوئی انکی زندگی میں ان پر کوئی مقدمہ ہوا کسی بھی قسم کا نہ کوئی جرائم کا ریکارڈ ہے سابقہ ۔۔۔۔ انکے اس وقت تھانے میں قید اور ریمانڈ پر ہونے کی وجہ صرف اور صرف نظام عدل اور انصاف کی تاخیر ہے ۔محمد نصیر نامی یہ بزرگ ڈی جی خان شہر آڑتالیس بلاک میں کرائے کہ ایک چھوٹے سے مکان کے رہائشی ہیں۔جن کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔محمد نصیر کا پانچ مرلے کے مکان پر اپنے ایک عزیز کے ساتھ طویل عرصہ سے ورثاتی تقسیم کا مقدمہ معزز عدالت میں زیر سماعت چلا آرہا ہے۔محمد نصیر جو خود غریب اور مزدور آدمی ہے ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان چلاتا ہے وہ وکیل صاحبان اور انکے منشیوں کو پیسے دے دے کر تھک چکا تھا انکے مطابق گزشتہ چھے سات سال سے عدالت میں تاریخ پر تاریخ ملتی جارہی تھی اب نہ انکے پاس وکیل کو دینے کے پیسے بچے ہیں نہ مزید پیشیاں بھگت سکتے ہیں گزشتہ کئی پیشیوں پر نصیر استعدعا کرتا رہا کہ جج صاحب مہربانی کرے میں اب مزید پیشیاں نہیں بھگت سکتا میرے گھر بچوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا کرائے کے مکان پر در بدر ہو۔غریب آدمی ہو میرا ورثاتی مکان کا فیصلہ کردیا جائے بے شک میرے خلاف ہو اگر میں جھوٹا ہو اور حقدار نہیں ہو تو۔۔۔ چار پانچ دن قبل سولہ اپریل کو جب انکو مزید اگلی تاریخ ڈی گئی تو محترم اور معزز جج صاحب سے بار بار استعدعا کی کہ بے شک زمین میرے مخالف کو دے پانچ مرلہ کا ہے جو کل۔لیکن مزید تاریخ اور پیشیاں نہ دے جس پر انکی جب نہ سنی گئی تو نظام عدل اور انصاف میں تاخیر ہونے سے انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور نصیر جج کے سامنے روسٹرم پر چڑھا اور جج صاحب سے اپنے احتجاج ریکارڈ کرایا تو انکو گرفتار کر لیا گیا نزدیکی تھانے سول لائن میں محترم جج صاحب کے سیٹنو گرافر کی مدعیت میں فوری مقدمہ درج کردیا گیا درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نصیر کی پیشی نہیں تھی اور اس نے آکر مجھے سٹینو گرافر اور محترم جج صاحب کو جان سے مارنے کی کوشش کی ۔ جس پر انہیں دہشت گردی سیون اے ٹی اے سمیت چھے دفعات لگا کر دہشت قرار دیکر قید کردیا گیا عدالتی میں پیشی کے بعد بارہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر تھانے میں قید ہے جس کے بعد اس دہشت گرد کو جس کا جرم انصاف مانگنا تھا کہ مجھے انصاف دیا جائے غریب آدمی ہو جوان بچیاں ہیں کھانے کو کچھ نہیں بچا گھر کرائے کا ہے ۔لیکن اسکو کئی سالوں کے پیشیوں کے بعد انصاف تو نہ مل سکا البتہ الٹا کئی سالوں کے لیے جیل مل گئی اب اسکو عدم پیشیوں پر شائد پانچ مرلے مکان سے نہ صرف ہاتھ دھونا پڑ جائیگا بلکہ شائد کئی سالوں کے لیے جیل کی دیواروں میں رہنا پڑیگا ۔جس غریب کا ایک پرچون کی دکان ہو اسکا کیس شائد کوئی وکیل بھی نہ لڑے کیونکہ اس کے پاس نہ پیسے نہ نہ ہی شائد یہ خود کو اب دہشت گردی جیسے مقدمات سے خود بری کروا سکے ۔ نصیر نے بے شک اچھا اقدام نہیں کیا اور عدالت کے وقار کو مجروح کیا روسٹرم پر چڑھ کر ۔لیکن شائد اس کے اندر موجود اس کرب اور پریشانی اور درد و تکلیف کو بھی عدالت کافی سال یا دن پہلے جان چکی ہوتی جو اس غریب پر گزر رہی تھی کاش اسکے بڑھاپے اور عمر کے اس حصے پر دل بڑا کرکے ہی کچھ ترس کرلیا جاتا کاش اسکے جوان بیٹیوں کی طرف ہی دیکھ لیا جاتا جن کا یہ بزرگ ہی سہارا تھا جو اب شائد کئی ماہ اور سالوں جیل میں گزارنا پڑے اب انکے گھر کو راشن کون دیگا انکی کرائے کے مکان کا کرائے کون ادا کریگا انکے بجلی بل کون ادا کریگا ۔نصیر اللہ سے شائد گلہ کررہا ہو کہ خدا تو سب دیکھ رہا ہے اگر میں غلط تھا تو میرے خلاف فیصلہ ہوتا قبول ہوتا مگر پانچ سال سے زائد عرصہ تک اذیت ناک انصاف میں تاخیر کیسے برداشت کر پاتا اوپر سے وکلاء کے مہنگے اخراجات۔۔۔نصیر کو انصاف تو وقت پر نہ مل سکا مگر اسکے صبر کے پیمانے لبریز ہونے کی وجہ سے اسکو جیل مل گئی ہے اور شائد اس جیسے کئی نصیر عدالتوں میں کئی سالوں سے انصاف کے متلاشی ہیں اور اپنی زندگیاں تک دے بیٹھے ہیں کسی کو موت نے آ پکڑا اور نصیر جیسے کو انصاف کی بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے شائد کئی سال رہنا پڑا اور پیچھے گھر میں اب جو نصیر کے بچے اپنے بابا کی جدائی کا درد اور اس عمر میں جیل کا سوچ کر جو درد اور اذیت برداشت کرینگے وہ بھی نصیر اور اسکے بچے ہی جانے ۔۔باقی میرے جیسے ایک عام سے صحافی کے لیے شائد ایک خبر ہی تھی اور باقی معاشرے والوں کے لیے بھی شائد چند منٹ کی گپ شپ کا موضع اور بحث و مکالمہ۔۔۔ نصیر تم دہشت گرد ہو اور تمہارا ٹھکانہ وہی ہے جہاں تم اب ہو اور شائد کئی سالوں تک تم کو اب اس میں رہنا پڑیگا کیونکہ نہ تمہارا اب کوئی وکیل ہونگا کیونکہ تمہاری فیس کوئی نہیں ادا کریگا اور تم عدالتی مجرم اور دہشت گرد ہو۔اور تمہارے بچوں کو شفقت اور انکے اخراجات بھی کوئی بھی پورے نہیں کرسکے گا کیونکہ انکی پرورش کرنے والے اب دہشت گرد بن کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہونگا کئی سالوں تک ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔یعقوب بزدار کی وال سے انتخ
خبر یہ کہ موجودہ چیف جسنٹس آف پاکستان محترم آصف سیعد کھوسہ کے آبائی شہر اور انکے مادر علمی کے شہر ڈی جی خان کے سول لائن تھانے میں موجود ساٹھ سالہ باریش یہ بزرگ جو منہ کعبہ شریف کی طرف کیے تسبیح ہاتھ میں لیے ورد وظیفہ پڑھ رہے ہیں کوئی پیشہ ور مجرم ہے نہ کوئی انکی زندگی میں ان پر کوئی مقدمہ ہوا کسی بھی قسم کا نہ کوئی جرائم کا ریکارڈ ہے سابقہ ۔۔۔۔ انکے اس وقت تھانے میں قید اور ریمانڈ پر ہونے کی وجہ صرف اور صرف نظام عدل اور انصاف کی تاخیر ہے ۔محمد نصیر نامی یہ بزرگ ڈی جی خان شہر آڑتالیس بلاک میں کرائے کہ ایک چھوٹے سے مکان کے رہائشی ہیں۔جن کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔محمد نصیر کا پانچ مرلے کے مکان پر اپنے ایک عزیز کے ساتھ طویل عرصہ سے ورثاتی تقسیم کا مقدمہ معزز عدالت میں زیر سماعت چلا آرہا ہے۔محمد نصیر جو خود غریب اور مزدور آدمی ہے ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان چلاتا ہے وہ وکیل صاحبان اور انکے منشیوں کو پیسے دے دے کر تھک چکا تھا انکے مطابق گزشتہ چھے سات سال سے عدالت میں تاریخ پر تاریخ ملتی جارہی تھی اب نہ انکے پاس وکیل کو دینے کے پیسے بچے ہیں نہ مزید پیشیاں بھگت سکتے ہیں گزشتہ کئی پیشیوں پر نصیر استعدعا کرتا رہا کہ جج صاحب مہربانی کرے میں اب مزید پیشیاں نہیں بھگت سکتا میرے گھر بچوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا کرائے کے مکان پر در بدر ہو۔غریب آدمی ہو میرا ورثاتی مکان کا فیصلہ کردیا جائے بے شک میرے خلاف ہو اگر میں جھوٹا ہو اور حقدار نہیں ہو تو۔۔۔ چار پانچ دن قبل سولہ اپریل کو جب انکو مزید اگلی تاریخ ڈی گئی تو محترم اور معزز جج صاحب سے بار بار استعدعا کی کہ بے شک زمین میرے مخالف کو دے پانچ مرلہ کا ہے جو کل۔لیکن مزید تاریخ اور پیشیاں نہ دے جس پر انکی جب نہ سنی گئی تو نظام عدل اور انصاف میں تاخیر ہونے سے انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور نصیر جج کے سامنے روسٹرم پر چڑھا اور جج صاحب سے اپنے احتجاج ریکارڈ کرایا تو انکو گرفتار کر لیا گیا نزدیکی تھانے سول لائن میں محترم جج صاحب کے سیٹنو گرافر کی مدعیت میں فوری مقدمہ درج کردیا گیا درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نصیر کی پیشی نہیں تھی اور اس نے آکر مجھے سٹینو گرافر اور محترم جج صاحب کو جان سے مارنے کی کوشش کی ۔ جس پر انہیں دہشت گردی سیون اے ٹی اے سمیت چھے دفعات لگا کر دہشت قرار دیکر قید کردیا گیا عدالتی میں پیشی کے بعد بارہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر تھانے میں قید ہے جس کے بعد اس دہشت گرد کو جس کا جرم انصاف مانگنا تھا کہ مجھے انصاف دیا جائے غریب آدمی ہو جوان بچیاں ہیں کھانے کو کچھ نہیں بچا گھر کرائے کا ہے ۔لیکن اسکو کئی سالوں کے پیشیوں کے بعد انصاف تو نہ مل سکا البتہ الٹا کئی سالوں کے لیے جیل مل گئی اب اسکو عدم پیشیوں پر شائد پانچ مرلے مکان سے نہ صرف ہاتھ دھونا پڑ جائیگا بلکہ شائد کئی سالوں کے لیے جیل کی دیواروں میں رہنا پڑیگا ۔جس غریب کا ایک پرچون کی دکان ہو اسکا کیس شائد کوئی وکیل بھی نہ لڑے کیونکہ اس کے پاس نہ پیسے نہ نہ ہی شائد یہ خود کو اب دہشت گردی جیسے مقدمات سے خود بری کروا سکے ۔ نصیر نے بے شک اچھا اقدام نہیں کیا اور عدالت کے وقار کو مجروح کیا روسٹرم پر چڑھ کر ۔لیکن شائد اس کے اندر موجود اس کرب اور پریشانی اور درد و تکلیف کو بھی عدالت کافی سال یا دن پہلے جان چکی ہوتی جو اس غریب پر گزر رہی تھی کاش اسکے بڑھاپے اور عمر کے اس حصے پر دل بڑا کرکے ہی کچھ ترس کرلیا جاتا کاش اسکے جوان بیٹیوں کی طرف ہی دیکھ لیا جاتا جن کا یہ بزرگ ہی سہارا تھا جو اب شائد کئی ماہ اور سالوں جیل میں گزارنا پڑے اب انکے گھر کو راشن کون دیگا انکی کرائے کے مکان کا کرائے کون ادا کریگا انکے بجلی بل کون ادا کریگا ۔نصیر اللہ سے شائد گلہ کررہا ہو کہ خدا تو سب دیکھ رہا ہے اگر میں غلط تھا تو میرے خلاف فیصلہ ہوتا قبول ہوتا مگر پانچ سال سے زائد عرصہ تک اذیت ناک انصاف میں تاخیر کیسے برداشت کر پاتا اوپر سے وکلاء کے مہنگے اخراجات۔۔۔نصیر کو انصاف تو وقت پر نہ مل سکا مگر اسکے صبر کے پیمانے لبریز ہونے کی وجہ سے اسکو جیل مل گئی ہے اور شائد اس جیسے کئی نصیر عدالتوں میں کئی سالوں سے انصاف کے متلاشی ہیں اور اپنی زندگیاں تک دے بیٹھے ہیں کسی کو موت نے آ پکڑا اور نصیر جیسے کو انصاف کی بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے شائد کئی سال رہنا پڑا اور پیچھے گھر میں اب جو نصیر کے بچے اپنے بابا کی جدائی کا درد اور اس عمر میں جیل کا سوچ کر جو درد اور اذیت برداشت کرینگے وہ بھی نصیر اور اسکے بچے ہی جانے ۔۔باقی میرے جیسے ایک عام سے صحافی کے لیے شائد ایک خبر ہی تھی اور باقی معاشرے والوں کے لیے بھی شائد چند منٹ کی گپ شپ کا موضع اور بحث و مکالمہ۔۔۔ نصیر تم دہشت گرد ہو اور تمہارا ٹھکانہ وہی ہے جہاں تم اب ہو اور شائد کئی سالوں تک تم کو اب اس میں رہنا پڑیگا کیونکہ نہ تمہارا اب کوئی وکیل ہونگا کیونکہ تمہاری فیس کوئی نہیں ادا کریگا اور تم عدالتی مجرم اور دہشت گرد ہو۔اور تمہارے بچوں کو شفقت اور انکے اخراجات بھی کوئی بھی پورے نہیں کرسکے گا کیونکہ انکی پرورش کرنے والے اب دہشت گرد بن کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہونگا کئی سالوں تک ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔یعقوب بزدار کی وال سے انتخ

No comments:
Post a Comment