Sunday, April 28, 2019

ڈیرہ غازیخان کے چوٹی سے شوکت عباس سانگھی

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار صاحب
ایک نگاہ کرم چوٹی زیریں پر بھی فرمائیں
چوٹی زیریں کی عوام آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں
نئی واٹر سپلائی سکیم بنائی گئی نئے پائپ لائن بھی ڈالی گئیں جتنی مبینہ کرپشن کرنی تھی وہ بھی ٹھیکداروں اور ان کے سرپرستوں نے کی ناقص پائپ کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں   ان ٹھیکداروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی بھی ضرورت ہے وعدوں کے باوجود ابھی تک پانی چالو نہیں کیا گیا البتہ صرف پائپ پر ٹوچ لگانے کے نام پر فی گھرانہ 300 روپے وصول کئے گئے اور کہا گیا اب پائپ بازار سے خریدیں اور کاریگر کو بولئیں اور کنکشن لگوائیں سوال یہ ہے کہ یہ 300 روپے فی گھرانہ کس کے حکم پر لئیے گے اور یہ رقم کہاں گئی اگر اس پر نوٹس نہ لیا گیا تو مزید لوٹ مار جاری رہے گی
  چوٹی زیریں کی  غریب عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں زیر زمین پانی کڑوا ہے اہل علاقہ یرقان اور ٹیفایڈ جسی بیماریوں میں مبتلا ہیں

فوری طور پر اس اہم مسئلہ پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے چوٹی زیریں کی عوام بولے یا نہ بولے ہم جناب سے اپیل کرتے ہیں کہ چوٹی زیریں کا بھی دورہ کریں کیونکہ چوٹی زیریں بھی جناب کا علاقہ ہے

Friday, April 19, 2019

مہنگے دور میں ہر غریب کیلئے انصاف لینا کوسوں دور کیا کبھی غریب بھی سستے انصاف کا سہارا لیکر عدالتوں پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں

انصاف کا طلب گار عدالتی مجرم اور دہشت گرد 😭😭۔
خبر یہ کہ موجودہ چیف جسنٹس آف پاکستان محترم  آصف سیعد کھوسہ کے آبائی شہر اور انکے مادر علمی کے  شہر ڈی جی خان کے سول لائن تھانے میں موجود ساٹھ سالہ باریش  یہ بزرگ جو منہ کعبہ شریف کی طرف کیے  تسبیح ہاتھ میں لیے ورد وظیفہ پڑھ رہے ہیں کوئی پیشہ ور مجرم ہے نہ کوئی انکی زندگی میں ان پر کوئی مقدمہ ہوا کسی بھی قسم کا نہ کوئی جرائم کا ریکارڈ ہے سابقہ ۔۔۔۔ انکے اس وقت تھانے میں قید اور ریمانڈ پر ہونے کی وجہ صرف اور صرف نظام عدل اور انصاف کی تاخیر ہے ۔محمد نصیر نامی یہ بزرگ ڈی جی خان شہر آڑتالیس بلاک میں کرائے کہ ایک چھوٹے سے مکان کے رہائشی ہیں۔جن کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔محمد نصیر کا پانچ مرلے کے  مکان پر اپنے ایک عزیز کے ساتھ طویل  عرصہ سے ورثاتی تقسیم کا  مقدمہ معزز عدالت میں زیر سماعت چلا آرہا ہے۔محمد نصیر جو خود غریب اور مزدور آدمی ہے ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان چلاتا ہے وہ وکیل صاحبان اور انکے منشیوں کو پیسے دے دے کر تھک چکا تھا انکے مطابق گزشتہ چھے سات سال سے عدالت میں تاریخ پر تاریخ ملتی جارہی تھی اب نہ انکے پاس وکیل کو دینے کے پیسے بچے ہیں نہ مزید پیشیاں بھگت سکتے ہیں گزشتہ کئی پیشیوں پر نصیر استعدعا کرتا رہا کہ جج صاحب مہربانی کرے میں اب مزید پیشیاں نہیں بھگت سکتا میرے گھر بچوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا کرائے کے مکان پر در بدر ہو۔غریب آدمی ہو میرا ورثاتی مکان کا فیصلہ کردیا جائے بے شک میرے خلاف ہو اگر میں جھوٹا ہو اور حقدار نہیں ہو تو۔۔۔ چار پانچ دن قبل سولہ اپریل  کو جب انکو مزید اگلی تاریخ ڈی گئی تو محترم اور معزز جج صاحب سے بار بار استعدعا کی کہ بے شک زمین میرے مخالف کو دے پانچ مرلہ کا ہے جو کل۔لیکن مزید تاریخ اور پیشیاں نہ دے جس پر  انکی جب نہ سنی گئی تو نظام عدل اور انصاف میں تاخیر ہونے سے انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور نصیر جج کے سامنے روسٹرم پر چڑھا اور جج صاحب سے اپنے احتجاج ریکارڈ کرایا تو انکو گرفتار کر لیا گیا نزدیکی تھانے سول لائن میں محترم جج صاحب کے سیٹنو گرافر کی مدعیت میں فوری مقدمہ درج کردیا گیا درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نصیر کی پیشی نہیں تھی اور اس نے آکر مجھے سٹینو گرافر اور محترم جج صاحب کو جان سے مارنے کی کوشش کی ۔ جس پر انہیں دہشت گردی سیون اے ٹی اے سمیت چھے دفعات لگا کر دہشت قرار دیکر قید کردیا گیا عدالتی میں پیشی کے بعد بارہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر تھانے میں قید ہے جس کے بعد اس دہشت گرد کو جس کا جرم انصاف مانگنا تھا کہ مجھے انصاف دیا جائے غریب آدمی ہو جوان بچیاں ہیں کھانے کو کچھ نہیں بچا گھر کرائے کا ہے ۔لیکن اسکو کئی سالوں کے پیشیوں کے بعد انصاف تو نہ مل سکا البتہ الٹا کئی سالوں کے لیے جیل مل گئی اب اسکو عدم پیشیوں پر شائد پانچ مرلے مکان سے نہ صرف ہاتھ دھونا پڑ جائیگا بلکہ  شائد کئی سالوں کے لیے جیل کی دیواروں میں رہنا پڑیگا ۔جس غریب کا ایک پرچون کی دکان ہو اسکا کیس شائد کوئی وکیل بھی نہ لڑے کیونکہ اس کے پاس نہ پیسے نہ نہ ہی شائد یہ خود کو اب دہشت گردی جیسے مقدمات سے خود بری کروا سکے ۔ نصیر نے بے شک اچھا اقدام نہیں کیا اور عدالت کے وقار کو مجروح کیا روسٹرم پر چڑھ کر ۔لیکن شائد اس کے اندر موجود اس کرب اور پریشانی اور درد و تکلیف کو بھی عدالت کافی سال یا دن پہلے جان چکی ہوتی جو اس غریب پر گزر رہی تھی کاش اسکے بڑھاپے اور عمر کے اس حصے پر دل بڑا کرکے ہی کچھ ترس کرلیا جاتا کاش اسکے جوان بیٹیوں کی طرف ہی دیکھ لیا جاتا جن کا یہ بزرگ ہی سہارا تھا جو اب شائد کئی ماہ اور سالوں جیل میں گزارنا پڑے اب انکے گھر کو راشن کون دیگا انکی کرائے کے مکان کا کرائے کون ادا کریگا انکے بجلی بل کون ادا کریگا ۔نصیر اللہ سے شائد گلہ کررہا ہو کہ خدا تو سب دیکھ رہا ہے اگر میں غلط تھا تو میرے خلاف فیصلہ ہوتا قبول ہوتا مگر پانچ سال سے زائد عرصہ تک اذیت ناک انصاف میں تاخیر کیسے برداشت کر پاتا اوپر سے وکلاء کے مہنگے اخراجات۔۔۔نصیر کو انصاف تو وقت پر نہ مل سکا مگر اسکے صبر کے پیمانے لبریز ہونے کی وجہ سے اسکو جیل مل گئی ہے اور شائد اس جیسے کئی نصیر عدالتوں میں کئی سالوں سے انصاف کے متلاشی ہیں اور اپنی زندگیاں تک دے بیٹھے ہیں کسی کو موت نے آ پکڑا اور نصیر جیسے کو انصاف کی بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے شائد کئی سال رہنا پڑا اور پیچھے گھر میں اب جو نصیر کے بچے اپنے بابا کی جدائی کا درد اور اس عمر میں جیل کا سوچ کر جو درد اور اذیت برداشت کرینگے وہ بھی نصیر اور اسکے بچے ہی جانے ۔۔باقی میرے جیسے ایک عام سے صحافی کے لیے شائد ایک خبر ہی تھی اور باقی معاشرے والوں کے لیے بھی شائد چند منٹ کی گپ شپ کا موضع اور بحث و مکالمہ۔۔۔ نصیر تم دہشت گرد ہو اور تمہارا ٹھکانہ وہی ہے جہاں تم اب ہو اور شائد کئی سالوں تک تم کو اب اس میں رہنا پڑیگا کیونکہ نہ تمہارا اب کوئی وکیل ہونگا کیونکہ تمہاری فیس کوئی نہیں ادا کریگا اور تم عدالتی مجرم اور دہشت گرد ہو۔اور  تمہارے بچوں کو شفقت اور انکے اخراجات بھی کوئی بھی پورے نہیں  کرسکے گا کیونکہ انکی پرورش کرنے والے اب دہشت گرد بن کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہونگا کئی سالوں تک  ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔یعقوب بزدار کی وال سے انتخ

Tuesday, April 9, 2019

ڈی جی خان کے سرداروں سمیت کامیاب امیدواروں اور پی ٹی آئ کے مگر مچھ چیلوں کو عثمان خان بزدار کے وزیر اعلی پنجاب بننے پر بواسیر نما پیچس برا حال

ڈیرہ غازیخان کے اکثر سرداروں اور کامیاب امیدواروں کو تکلیف پی ٹی آئ سے نہیں انہیں 125ٹمپریچر کے بخار سردار عثمان خان بزدار یعنی بزدار قوم سے ہے میں بخوبی آگاہ اور جانتا ہوں اویس خان لیغاری صاحب میرے پارٹی کا ہے اسکی قدر کرتا ہوں لیکن جب سے پنجاب میں سی ایم عثمان خان بزدار بنا ماسوائے چند ایک کے ڈی جی خان کے اکثر سرداروں کے سر چکرانے لگا ہے کیونکہ انہیں پی ٹی آئ کے حکومت سے ڈر اور نفرت نہیں انکا نفرت بزدار سے ہے ڈر سیاسی کیئرئر سے ہے ڈر ہے کہیں عثمان خان بزدار دنیا کے پسماندہ سے پسماندہ ترین اپنے بزدار قبائل میں ترقی دلواکر ہم ڈی جی خان کے سرداروں کے بڑا پن کو ہمیشہ کیلئے دفن نہ کر دے اللہ تعالی نے چاہا اگر سی ایم پنجاب جناب سردار عثمان خان بزدار نے بزدار قبائل سمیت ڈیرہ غازیخان کے تمام بلوچوں کے پسماندگی کو دیکھ کر ختم کرنے کی کوشش کی تو یقینن ان سیاسی پنڈت نما گوریلوں کے سیاست کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہوگا اگر سی ایم پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے ان پرانے پنڈتوں کے روش کو اپناتے ہوئے خاموشی اختیار کی تو سبھی کا سورج ایک ساتھ غروب اور طلوع ہوتا رہیگا

Sunday, April 7, 2019

روجھان کے کچہ کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجر کا کاروائ

راجن پور  کچہ مییں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا 
ترجمان پولیس ۔۔۔
 ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت اور ڈی پی او راجن پور ہارون رشید کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری کچہ میں پہنچ گئی ہے۔ پولیس کو کچہ کے ڈاکوئوں کے خلاف پاک فوج، رینجرز، انٹیلی جنس ایجنسیز، ایس پی یو کی مددحاصل ہے ۔ پولیس اور ایلیٹ فورس کمانڈوز نے ڈاکوئوں کے ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
پولیس نے کچہ میں ڈاکوئوں کے خلاف مورچہ بندی شروع کر دی  پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے ۔ کچہ کو ڈاکوئوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا 

Wednesday, April 3, 2019

ڈیرہ غازیخان ، عالیوالا سے نمائندہ کی تازہ ترین نیوز اپڈیٹ

عالیوالا ( نیوز ) دیہی مرکز صحت عالیوالا میں ایمرجنسی کی صورت میں تمام وسائل بروئے کار عوام کو سہولیات فراہم کرنے اہم کردار ادا کرنا میری اولین ترجیح ہے انسانی جانوں سے کھیلنے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے عملہ سے شکایت کی صورت میں مجھ سے رابطہ کیا جائے مریضوں کو بروقت ادویات کی فراہمی ہمارا مشن ہے ہسپتال کا ماتحت عملہ مریضوں سے اخلاق کے ساتھ پیش آئیں مریضوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ کرنے والے عملہ سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا ان خیالات کا اظہار دیہی مرکز صحت کے انچارج حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈاکٹر  فیاض حسین جروار نے دہی مرکز صحت عالیوالا  میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا مزید انہوں نے کہا کہ ماتحت عملہ ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر مریضوں کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آئیں مریض کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنا مریض کی آدھی بیماری کا حل ہے انسانی جانوں سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں ہے ایمرجنسی کی صورت میں ڈلیوری کیس ہوں یا حادثاتی مریض ہوں  ہسپتال کا عملہ چوبیس گھنٹے موجود ہے اگر اس مرکز صحت میں مریض کا علاج نہ ممکن ہوا تو مریضوں کو ایمبولینس کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ غازیخان ریفر کر دیا جائے گا مزید انہوں نے کہا کہ مرکز صحت میں ادویات کی فراہمی ہر صورت یقینی بناوں گا میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ عوام کی محبت اور تعاون کی وجہ سے ہوں۔ کام سے لگن اور جذبے کے ساتھ اگر مقصد نیک  ہو تو انسان بڑے سے بڑا کام انجام دے کر منزل  پا لیتا ہے انہوں نے کہا کہ مریضوں کی خدمت کرنا میرا اخلاقی اور قومی فرض ہے مریضوں خدمت کرکے خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے
یہ دہی مرکز صحت عوام کی سہولیات کے لیے بنایا گیا ہے جس کا خاطر خواہ سہولیات فراہم کرنا میری اولین ترجیح ہے
فوٹو میل سے لیں

ڈیرہ غازی خان بارات میں پیسوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون بھی لٹا دیئے گئے

ڈی جی خان ، بارات میں پیسوں کے ساتھ موبائل فون کی بارش کر دی باراتیوں سمیت راہ گیر بھی پیسے اور موبائل فون پکڑنے کی کوشش میں لگ گئے ڈیر...