Friday, January 3, 2020

ڈیرہ غازی خان بارات میں پیسوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون بھی لٹا دیئے گئے

ڈی جی خان ، بارات میں پیسوں کے ساتھ موبائل فون کی بارش کر دی باراتیوں سمیت راہ گیر بھی پیسے اور موبائل فون پکڑنے کی کوشش میں لگ گئے

ڈیرہ غازی خان (ٹرائیبل نیوز) ڈی جی خان، بارات میں پیسوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون کی بارش کر دی پہلے خوب دیر تک نوٹ باراتیوں کی طرف اچھالے گئے، کچھ دیر موبائل فونز کی بھی بارش کی گئی۔ ڈی جی خان، بارات میں پیسوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون کی بارش کر دی۔ پہلے خوب دیر تک نوٹ باراتیوں کی طرف اچھالے گئے، کچھ دیر موبائل فونز کی بھی بارش کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق دولہے کے بھائیوں نے تقریباََ آدھے گھنٹے تک نوٹوں اور موبائل فونز کی بارش کی۔ پہلے کچھ دیر باراتیوں کی طرف صرف اور صرف پیسے پھینکے گئے، لیکن کچھ دیر بعد دولہے کے بھائیوں کی جانب سے باراتیوں کی جانب موبائل فونز کی بھی بارش کر دی گئی۔ آپ نے ا س سے قبل بارات میں پیسوں کی نمائش دیکھی ہو گی لیکن  پنجاب

کے شہر ڈی جی خان میں پیش آنے والا یہ واقع جہاں باراتیوں نے دولت کی نمائش کے لئے کچھ اور نہیں، بلکہ موبائل فونر کی نمائش کر ڈالی۔

TRAIBAL_NEWS
باراتیوں کی جانب ایک بڑی تعداد میں موبائل فون پھینکے گئے۔تفصیلات کے مطابق جب موبائل فونز کی بارش کی گئی تو باراتیوں سمیت راہ گیر بھی بس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور پیسے اور موبائل فون پکڑنے کی کوشش میں لگ گئے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح لوگوں نے بس کو اپنے دائرہ میں لے لیا تھا اور کس قدر دولہے کے بھائیوں کی جانب سے دولت کی نمائش کی گئی تھی۔
ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ دولہے کے بھائیوں نے پہلے صرف اور صرف پیسے کی نمائش کی لیکن جیسے ہی کچھ زیادہ لوگ جمع ہوئے تو انہوں نے موبائل فون پھینکنا شروع کر دیئے۔ڈی جی خان میں پیش آنے والے اس واقع نے وہاں کے مقیموں میں حیران کن فضا پیدا کر دی ، کیونکہ اس سے پہلے اس طرح کی پیسوں کی نمائش کہیں دیکھنے کو نہیں ملی

Thursday, January 2, 2020

ڈیرہ غازی خان کے شاہ صدردین میں کل ڈاکوؤں کا شہری پر بھٹہ نہ دینے کے غصے میں ہولناک حملہ شہریوں اور بروقت کاروائی سے ایک دہشت گرد ھلاک

عاقی ملاں دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچا جس نے درجنوں بے قصور لوگوں کو قتل اور زڂمی کیا ۔اس دہشت گرد نے پورے ضلع ڈی جی ڂان میں ات مچا رکھی تھی ہر روز ڈکیتی کرتا اور ساتھیوں سمیت فرار ہو جاتا اس ظالم درندے نے کئ ماؤں کے لڂت جگر چھینے کئ سہاگ اجاڑے آڂرکار آج علاقہ شاہصدردین میں دوران ڈکیتی پولیس کے سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر جہنم واصل ہوا
عاقی ملاں لعنت تیری زندگی پر لعنت تیری موت پر لعنت تیری وارداتوں پر لعنت تیرے جیسے کرداروں پر لعنت تیرے سہولت کاروں پر لعنت تیرے بزدل ساتھیوں پر اور لعنت تیری بزدلی کی زندگی پر کہ تو نے بہت سارے غریب بے بس لوگوں پر ستم ڈھائے درجنوں لوگوں کو ناحق مارا درجنوں کو زندگی بھر کیلیئے معزور کیا اور آڂرکار آج کتے کی موت مارا گیا ۔عاقی ملاں تم ڂنزیر سے بدتر تھے اور تمہارے ساتھی ڂنزیر سے زیادہ ناپاک اور نفرت انگیز ہیں اور جلد ہی تمہارے ساتھ جہنم میں تم سے آ ملیں گے۔شیطان ابلیس عاقی ملاں تم نے سلیمان شہید کا گھر اجاڑا تم  حیدر اور عبداللہ کی موت کا سبب بنے تم نے منجھوٹھہ غریب کو ڂون میں لت پت کیا تم نے بے بسوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کی تمہارا انجام یہی ہونا تھا ۔حق تو یہ بنتا تھا تم کو زندہ پکڑ کر تمہارے بدبودار جسم کو پٹرول چھڑک کر جلایا جاتا لیکن اب تم کتے کی موت مر کر جہنم پہنچ چکے ہو ۔ہمیں تمہاری موت کی ڂوشڂبری سن کر بے انتہا ڂوشی ہوئ ہے
شاہصدردین اور کوٹ مبارک کے لوگو جشن مناؤ بھنگڑے ڈالو اور ان ہاتھوں کو چوم لو جنہوں نے اس کتے پر فائر کھولے جنہوں نے گولیوں کی بارش میں بہادری کی داستان رقم کی ۔میرا سلام ان ہاتھوں کو جنہوں نے میرے وسیب کے معصوم لوگوں کے قاتل کو جہنم واصل کیا میرا سلیوٹ ان بہادر پولیس اہلکاروں کو جنہوں نے اپنی زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مقابلہ کیا اور سلام شاہصدردین کی عوام کو جو ڈاکو سے مقابلہ کرنے کی ڂاطر پولیس کے دو نوجوانوں کے شانہ بشانہ لڑے ۔
سلام تمہاری عظمت کو سلام تمہاری غیرت کو ۔جی چاہتا ہے ان بہادر سپوتوں کے قدم چوم لوں جنہوں نے ایک شیطان کو عبرت ناک انجام سے دو چار کیا
اور اس کا دوسرا ساتھی عونی کھوسہ ان شاءاللہ جلد ہی ایسے انجام سے دوچار ہو گا
کوٹ مبارک اور شاہصدردین کے غیرت مند نوجوانو جاؤ اپنے ان محافظوں کے پاس ان کو پھولوں اور پیسوں کے سہروں سے لاد دو  جنہوں نے تمہیں ایک درندے سے نجات دلائ ۔

Friday, May 17, 2019

راجن جیکب ڈی جی خان بلوچستان بلوچستان ڈیرہ غازی خان تاریخ کے سنہرے الفاظ میں

ڈیرہ غازی خان کی دھرتی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے مشہور رہی ہے، پندرہویں 15 صدی عیسوی میں بلوچ قبائل نے اس دھرتی کو اپنا مستقر بنایا۔ ایک ممتاز بلوچ سردار میر حاجی خان میرانی نے اپنے لاڈلے بیٹے غازی خان کے نام پر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر ڈیرہ غازی خان کی بنیاد رکھی۔ 1887 میں ڈیرہ غازی خان دریائے سندھ کے کٹاوُ کی لپیٹ میں آگیا۔ اس وقت یہ شہر موجودہ مقام سے 15 کلومیٹر مشرق میں واقع تھا۔ ڈیرہ کا لفظ فارسی سے نکلا ہے جس کے معنی رہائش گاہ ہے۔ تاہم بلوچ ثقافت میں ڈیرہ کو قیام گاہ کے ساتھ ساتھ مہمان خانہ یعنی وساخ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا جابضلعڈیرہ غازی خان قدیم شہر کی بنیاد1474نئے شہر کی بنیاد رکھی ہے
محل وقوع کے لحاظ سے ڈیرہ غازی خان ملک کے چاروں صوبوں کے وسط میں واقع ہے، اس کے مغرب میں کوہ سلیمان کا بلند و بالا سلسلہ ہے، شمال میں تھل اور مشرق میں دریائے سندہ ٹھاٹھیں مار رہا ہے، طبقات الارض کے حوالے سے یہ خطہ پہاڑی، دامانی، میدانی اور دریائی علاقوں پر مشتمل ہے، آب و ہوا کے لحاظ سے سردیوں میں سرد اور گرمیوں میں گرم مربوط خطہ ہے۔
علاقے کے رہائشیوں کی اکثریت بلوچی زبان بولتی ہے جبکہ کچھ اربن ایریا شہر کے وسط میں بلوچی  کے ساتھ ساتھ  جاٹکی ملتانی ریاستی جسے ابھی سرائیکی زبان کہتے ہیں یعنی سرائیکی زبان بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے، لغاری علیانی ، کھوسہ، مزاری،لنڈ ، گورچانی، کیھتران، بزدار اور قیصرانی یہاں کے تمندار ہیں، بلوچ قبیلوں کی یہ تقسیم انگریز حکمرانوں نے کی، انہوں نے قبائلی سرداروں کو اختیارات دیے۔ عدلیہ کا کام جرگے نے سنبھالا جس کی نشتیں ڈیرہ غازی خان کے صحت افزاء مقام فورٹ منرو کے مقام پر ہوتی ہیں جو سطح سمندرسے 6470 فٹ بلند ہے۔ انتظامیہ کے لیے بارڈر ملٹری پولیس بنائی گئی ہے جو انہی قبائلی سرداروں کی منتخب کردہ ہوتی ہے۔  یہ دریائے سندہ بلوچستان آخری بارڈر ہوا کرتی تھی جب ون یونٹ لگا تو تمام تر صوبوں کو ختم کردیا گیا
بہاولپور بھی ایک صوبہ ہوا کرتا تھا جب قوم پرستوں نے تحریک چلایا تو بہت سے ظلم اور قتل و غارت کے بعد تمام صوبوں کو بحال کر دیا جا سوائے صوبہ بہاولپور کا ۔۔
اور کچھ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ غازیخان راجن پور کو پنجاب میں ملا دیا اور جیکب آباد کو سندہ میں شامل کردیا  مال مفت دل بے رحم والی بات ہوئی ہے
اب جبکہ ایک آواز اٹھی ہے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی بحالی کا تو ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے بلوچوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم اپنے علاقے کو تاریخی اور ثقافتی بنیاد پر بلوچستان میں ضم کرنے کا تحریک چلائیں گے تمام بلوچ تمنداران سے گزارش ہے کہ ہمارا ساتھ دیں اگر پنجاب کی تقسیم  ضروری ہے تو ہمارے علاقوں کو بلوچستان میں شامل کیا جائے تمام اہلیان ڈیرہ غازی کا اور راجنپور والوں کو چاہئے کہ ہمارے تحریک کے ساتھ دیں
من جانب اہلیان ڈیرہ راجن پور

Sunday, April 28, 2019

ڈیرہ غازیخان کے چوٹی سے شوکت عباس سانگھی

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار صاحب
ایک نگاہ کرم چوٹی زیریں پر بھی فرمائیں
چوٹی زیریں کی عوام آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں
نئی واٹر سپلائی سکیم بنائی گئی نئے پائپ لائن بھی ڈالی گئیں جتنی مبینہ کرپشن کرنی تھی وہ بھی ٹھیکداروں اور ان کے سرپرستوں نے کی ناقص پائپ کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں   ان ٹھیکداروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی بھی ضرورت ہے وعدوں کے باوجود ابھی تک پانی چالو نہیں کیا گیا البتہ صرف پائپ پر ٹوچ لگانے کے نام پر فی گھرانہ 300 روپے وصول کئے گئے اور کہا گیا اب پائپ بازار سے خریدیں اور کاریگر کو بولئیں اور کنکشن لگوائیں سوال یہ ہے کہ یہ 300 روپے فی گھرانہ کس کے حکم پر لئیے گے اور یہ رقم کہاں گئی اگر اس پر نوٹس نہ لیا گیا تو مزید لوٹ مار جاری رہے گی
  چوٹی زیریں کی  غریب عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں زیر زمین پانی کڑوا ہے اہل علاقہ یرقان اور ٹیفایڈ جسی بیماریوں میں مبتلا ہیں

فوری طور پر اس اہم مسئلہ پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے چوٹی زیریں کی عوام بولے یا نہ بولے ہم جناب سے اپیل کرتے ہیں کہ چوٹی زیریں کا بھی دورہ کریں کیونکہ چوٹی زیریں بھی جناب کا علاقہ ہے

Friday, April 19, 2019

مہنگے دور میں ہر غریب کیلئے انصاف لینا کوسوں دور کیا کبھی غریب بھی سستے انصاف کا سہارا لیکر عدالتوں پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں

انصاف کا طلب گار عدالتی مجرم اور دہشت گرد 😭😭۔
خبر یہ کہ موجودہ چیف جسنٹس آف پاکستان محترم  آصف سیعد کھوسہ کے آبائی شہر اور انکے مادر علمی کے  شہر ڈی جی خان کے سول لائن تھانے میں موجود ساٹھ سالہ باریش  یہ بزرگ جو منہ کعبہ شریف کی طرف کیے  تسبیح ہاتھ میں لیے ورد وظیفہ پڑھ رہے ہیں کوئی پیشہ ور مجرم ہے نہ کوئی انکی زندگی میں ان پر کوئی مقدمہ ہوا کسی بھی قسم کا نہ کوئی جرائم کا ریکارڈ ہے سابقہ ۔۔۔۔ انکے اس وقت تھانے میں قید اور ریمانڈ پر ہونے کی وجہ صرف اور صرف نظام عدل اور انصاف کی تاخیر ہے ۔محمد نصیر نامی یہ بزرگ ڈی جی خان شہر آڑتالیس بلاک میں کرائے کہ ایک چھوٹے سے مکان کے رہائشی ہیں۔جن کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔محمد نصیر کا پانچ مرلے کے  مکان پر اپنے ایک عزیز کے ساتھ طویل  عرصہ سے ورثاتی تقسیم کا  مقدمہ معزز عدالت میں زیر سماعت چلا آرہا ہے۔محمد نصیر جو خود غریب اور مزدور آدمی ہے ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان چلاتا ہے وہ وکیل صاحبان اور انکے منشیوں کو پیسے دے دے کر تھک چکا تھا انکے مطابق گزشتہ چھے سات سال سے عدالت میں تاریخ پر تاریخ ملتی جارہی تھی اب نہ انکے پاس وکیل کو دینے کے پیسے بچے ہیں نہ مزید پیشیاں بھگت سکتے ہیں گزشتہ کئی پیشیوں پر نصیر استعدعا کرتا رہا کہ جج صاحب مہربانی کرے میں اب مزید پیشیاں نہیں بھگت سکتا میرے گھر بچوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا کرائے کے مکان پر در بدر ہو۔غریب آدمی ہو میرا ورثاتی مکان کا فیصلہ کردیا جائے بے شک میرے خلاف ہو اگر میں جھوٹا ہو اور حقدار نہیں ہو تو۔۔۔ چار پانچ دن قبل سولہ اپریل  کو جب انکو مزید اگلی تاریخ ڈی گئی تو محترم اور معزز جج صاحب سے بار بار استعدعا کی کہ بے شک زمین میرے مخالف کو دے پانچ مرلہ کا ہے جو کل۔لیکن مزید تاریخ اور پیشیاں نہ دے جس پر  انکی جب نہ سنی گئی تو نظام عدل اور انصاف میں تاخیر ہونے سے انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور نصیر جج کے سامنے روسٹرم پر چڑھا اور جج صاحب سے اپنے احتجاج ریکارڈ کرایا تو انکو گرفتار کر لیا گیا نزدیکی تھانے سول لائن میں محترم جج صاحب کے سیٹنو گرافر کی مدعیت میں فوری مقدمہ درج کردیا گیا درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نصیر کی پیشی نہیں تھی اور اس نے آکر مجھے سٹینو گرافر اور محترم جج صاحب کو جان سے مارنے کی کوشش کی ۔ جس پر انہیں دہشت گردی سیون اے ٹی اے سمیت چھے دفعات لگا کر دہشت قرار دیکر قید کردیا گیا عدالتی میں پیشی کے بعد بارہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر تھانے میں قید ہے جس کے بعد اس دہشت گرد کو جس کا جرم انصاف مانگنا تھا کہ مجھے انصاف دیا جائے غریب آدمی ہو جوان بچیاں ہیں کھانے کو کچھ نہیں بچا گھر کرائے کا ہے ۔لیکن اسکو کئی سالوں کے پیشیوں کے بعد انصاف تو نہ مل سکا البتہ الٹا کئی سالوں کے لیے جیل مل گئی اب اسکو عدم پیشیوں پر شائد پانچ مرلے مکان سے نہ صرف ہاتھ دھونا پڑ جائیگا بلکہ  شائد کئی سالوں کے لیے جیل کی دیواروں میں رہنا پڑیگا ۔جس غریب کا ایک پرچون کی دکان ہو اسکا کیس شائد کوئی وکیل بھی نہ لڑے کیونکہ اس کے پاس نہ پیسے نہ نہ ہی شائد یہ خود کو اب دہشت گردی جیسے مقدمات سے خود بری کروا سکے ۔ نصیر نے بے شک اچھا اقدام نہیں کیا اور عدالت کے وقار کو مجروح کیا روسٹرم پر چڑھ کر ۔لیکن شائد اس کے اندر موجود اس کرب اور پریشانی اور درد و تکلیف کو بھی عدالت کافی سال یا دن پہلے جان چکی ہوتی جو اس غریب پر گزر رہی تھی کاش اسکے بڑھاپے اور عمر کے اس حصے پر دل بڑا کرکے ہی کچھ ترس کرلیا جاتا کاش اسکے جوان بیٹیوں کی طرف ہی دیکھ لیا جاتا جن کا یہ بزرگ ہی سہارا تھا جو اب شائد کئی ماہ اور سالوں جیل میں گزارنا پڑے اب انکے گھر کو راشن کون دیگا انکی کرائے کے مکان کا کرائے کون ادا کریگا انکے بجلی بل کون ادا کریگا ۔نصیر اللہ سے شائد گلہ کررہا ہو کہ خدا تو سب دیکھ رہا ہے اگر میں غلط تھا تو میرے خلاف فیصلہ ہوتا قبول ہوتا مگر پانچ سال سے زائد عرصہ تک اذیت ناک انصاف میں تاخیر کیسے برداشت کر پاتا اوپر سے وکلاء کے مہنگے اخراجات۔۔۔نصیر کو انصاف تو وقت پر نہ مل سکا مگر اسکے صبر کے پیمانے لبریز ہونے کی وجہ سے اسکو جیل مل گئی ہے اور شائد اس جیسے کئی نصیر عدالتوں میں کئی سالوں سے انصاف کے متلاشی ہیں اور اپنی زندگیاں تک دے بیٹھے ہیں کسی کو موت نے آ پکڑا اور نصیر جیسے کو انصاف کی بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے شائد کئی سال رہنا پڑا اور پیچھے گھر میں اب جو نصیر کے بچے اپنے بابا کی جدائی کا درد اور اس عمر میں جیل کا سوچ کر جو درد اور اذیت برداشت کرینگے وہ بھی نصیر اور اسکے بچے ہی جانے ۔۔باقی میرے جیسے ایک عام سے صحافی کے لیے شائد ایک خبر ہی تھی اور باقی معاشرے والوں کے لیے بھی شائد چند منٹ کی گپ شپ کا موضع اور بحث و مکالمہ۔۔۔ نصیر تم دہشت گرد ہو اور تمہارا ٹھکانہ وہی ہے جہاں تم اب ہو اور شائد کئی سالوں تک تم کو اب اس میں رہنا پڑیگا کیونکہ نہ تمہارا اب کوئی وکیل ہونگا کیونکہ تمہاری فیس کوئی نہیں ادا کریگا اور تم عدالتی مجرم اور دہشت گرد ہو۔اور  تمہارے بچوں کو شفقت اور انکے اخراجات بھی کوئی بھی پورے نہیں  کرسکے گا کیونکہ انکی پرورش کرنے والے اب دہشت گرد بن کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہونگا کئی سالوں تک  ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔یعقوب بزدار کی وال سے انتخ

Tuesday, April 9, 2019

ڈی جی خان کے سرداروں سمیت کامیاب امیدواروں اور پی ٹی آئ کے مگر مچھ چیلوں کو عثمان خان بزدار کے وزیر اعلی پنجاب بننے پر بواسیر نما پیچس برا حال

ڈیرہ غازیخان کے اکثر سرداروں اور کامیاب امیدواروں کو تکلیف پی ٹی آئ سے نہیں انہیں 125ٹمپریچر کے بخار سردار عثمان خان بزدار یعنی بزدار قوم سے ہے میں بخوبی آگاہ اور جانتا ہوں اویس خان لیغاری صاحب میرے پارٹی کا ہے اسکی قدر کرتا ہوں لیکن جب سے پنجاب میں سی ایم عثمان خان بزدار بنا ماسوائے چند ایک کے ڈی جی خان کے اکثر سرداروں کے سر چکرانے لگا ہے کیونکہ انہیں پی ٹی آئ کے حکومت سے ڈر اور نفرت نہیں انکا نفرت بزدار سے ہے ڈر سیاسی کیئرئر سے ہے ڈر ہے کہیں عثمان خان بزدار دنیا کے پسماندہ سے پسماندہ ترین اپنے بزدار قبائل میں ترقی دلواکر ہم ڈی جی خان کے سرداروں کے بڑا پن کو ہمیشہ کیلئے دفن نہ کر دے اللہ تعالی نے چاہا اگر سی ایم پنجاب جناب سردار عثمان خان بزدار نے بزدار قبائل سمیت ڈیرہ غازیخان کے تمام بلوچوں کے پسماندگی کو دیکھ کر ختم کرنے کی کوشش کی تو یقینن ان سیاسی پنڈت نما گوریلوں کے سیاست کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہوگا اگر سی ایم پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے ان پرانے پنڈتوں کے روش کو اپناتے ہوئے خاموشی اختیار کی تو سبھی کا سورج ایک ساتھ غروب اور طلوع ہوتا رہیگا

Sunday, April 7, 2019

روجھان کے کچہ کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجر کا کاروائ

راجن پور  کچہ مییں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا 
ترجمان پولیس ۔۔۔
 ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت اور ڈی پی او راجن پور ہارون رشید کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری کچہ میں پہنچ گئی ہے۔ پولیس کو کچہ کے ڈاکوئوں کے خلاف پاک فوج، رینجرز، انٹیلی جنس ایجنسیز، ایس پی یو کی مددحاصل ہے ۔ پولیس اور ایلیٹ فورس کمانڈوز نے ڈاکوئوں کے ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
پولیس نے کچہ میں ڈاکوئوں کے خلاف مورچہ بندی شروع کر دی  پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے ۔ کچہ کو ڈاکوئوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا 

Wednesday, April 3, 2019

ڈیرہ غازیخان ، عالیوالا سے نمائندہ کی تازہ ترین نیوز اپڈیٹ

عالیوالا ( نیوز ) دیہی مرکز صحت عالیوالا میں ایمرجنسی کی صورت میں تمام وسائل بروئے کار عوام کو سہولیات فراہم کرنے اہم کردار ادا کرنا میری اولین ترجیح ہے انسانی جانوں سے کھیلنے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے عملہ سے شکایت کی صورت میں مجھ سے رابطہ کیا جائے مریضوں کو بروقت ادویات کی فراہمی ہمارا مشن ہے ہسپتال کا ماتحت عملہ مریضوں سے اخلاق کے ساتھ پیش آئیں مریضوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ کرنے والے عملہ سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا ان خیالات کا اظہار دیہی مرکز صحت کے انچارج حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈاکٹر  فیاض حسین جروار نے دہی مرکز صحت عالیوالا  میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا مزید انہوں نے کہا کہ ماتحت عملہ ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر مریضوں کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آئیں مریض کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنا مریض کی آدھی بیماری کا حل ہے انسانی جانوں سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں ہے ایمرجنسی کی صورت میں ڈلیوری کیس ہوں یا حادثاتی مریض ہوں  ہسپتال کا عملہ چوبیس گھنٹے موجود ہے اگر اس مرکز صحت میں مریض کا علاج نہ ممکن ہوا تو مریضوں کو ایمبولینس کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ غازیخان ریفر کر دیا جائے گا مزید انہوں نے کہا کہ مرکز صحت میں ادویات کی فراہمی ہر صورت یقینی بناوں گا میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ عوام کی محبت اور تعاون کی وجہ سے ہوں۔ کام سے لگن اور جذبے کے ساتھ اگر مقصد نیک  ہو تو انسان بڑے سے بڑا کام انجام دے کر منزل  پا لیتا ہے انہوں نے کہا کہ مریضوں کی خدمت کرنا میرا اخلاقی اور قومی فرض ہے مریضوں خدمت کرکے خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے
یہ دہی مرکز صحت عوام کی سہولیات کے لیے بنایا گیا ہے جس کا خاطر خواہ سہولیات فراہم کرنا میری اولین ترجیح ہے
فوٹو میل سے لیں

Sunday, March 31, 2019

ٹرائیبل ایریا میں غریب عوام کے زمینوں پر سردار اویس خان لیغاری کا جھپٹا

بریک نیوز

چوٹی زیریں پل 0بھکر وے کہ قریب  سردار اویس لغاری کے

کارندوں الصبح غریب ٹریبل ایریا کے غریبوں کے زمینوں پر

قبضہ کر لیا ھے اور فصل والے زمینوں پر ٹریکٹر چلائے

موقع پرموجود لوگوں کو زدکوب بھی کیا   واضح رہے یہ

فرقہ لغاری سرداروں کے گروپ کے فورٹ منرو میں  جانے مانے جاتے تھے

یار خان جاڑانی اینڈ علی خان جو عرصے بیس سال سے

اسی زمینوں پر کاشت کاری کر رہے تھے

تھئ سردار مئی سردار  والوں کو میرا سرخ سلام

Friday, March 22, 2019

ڈیرہ غازیخان تبادلہ ملازمت کا حصہ ہےآپ لوگوں کی محبت یاد رکھا جائیگا

اور میں یہاں سے اچھی یادیں لیکر جارہاہوں یہ بات ایس پی انوسٹی گیشن طاہر مصطفےٰ نے تبادلہ کیFarewell پارٹی کے موقع پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہی اس موقع پرعاطف نذیر ڈسڑکٹ پولیس آفسیر ڈیرہ غازیخان ،ایس پی RIBجلیل عمران، ڈی ایس پی سٹی ضیاء الحق، ADIGفاروق احمد، ڈی ایس پی شاہ عالم، ڈی ایس پی ثناء اللہ، ڈی ایس پی سرکل کوٹ چھٹہ وسیم جھکٹر، انچارج CTD ملک جاوید ، آفس سپرنٹنڈنٹ غلام شبیر جسکانی ،PAمحمد سلیمان، ریٹائرڈ انسپکٹر بخت علی ، SHO گدائی علی محمد،SHO صدر علم دین، SHO افتخار احمد، SHO عصمت عباس ، ریڈر DPO سلیم عباس، PSOکامران اقبال، کاشف حسینPRO و دیگرآفسیران و ملازمان موجود تھے۔ ڈی پی اوعاطف نذیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی انوسٹی گیشن طاہر مصطفےٰ نے اپنے پیشہ وارانہ فرائض انتہائی محنت اور پر خلوص طور پر سرانجام دیے اوران کی کارگردگی اچھی رہی ہے ۔اس موقع پر ایس پی جلیل عمرانRIB دیگر پولیس آفیسران نے تبدیل ہونے والے ایس پی انوسٹی گیشن طاہر مصطفےٰ کی صلاحتوں کو سراہا ۔ ایس پی انوسٹی گیشن طاہر مصطفےٰ نے کہا کہ میں ڈی پی او عاطف نذیر کے ماتحت اپنی تعیناتی کی یادیں ہمیشہ یاد رکھوں گا اور میں نے ڈی پی او عاطف نذیرکے اعلی تجربے سے بھر پور استفادہ حاصل کیا انہوں نے کہا کہ ڈی پی اوعاطف نذیر ایک انتہائی شفیق اور تجربہ کار پولیس آفسیر ہیں اس کے علاوہ انتہائی بہادر اور جانباز پولیس آفیسربھی ہیں اور میں انہیں ایک اچھے استاد کی نظر سے دیکھتا ہوں ۔ تقریب میں شرکاء کی خاطر تواضع بھی کی گئی اورڈی پی او عاطف نذیر نے ایس پی انوسٹی گیشن طاہر مصطفےٰ کو یادگاری شیلڈ دیتے ہوئے پر وقار انداز میں رخصت کیا یاد رہے کہ ایس پی انوسٹی گیشن طاہر مصطفےٰ اب اپنے فرائض بطور ایس پی پٹرولنگ پولیس ڈیرہ غازیخان انجام دیں گے۔

Thursday, March 21, 2019

بلوچوں کو کبھی کسی نے حقوق دینا دور کی بات سوبا تک نہیں صرف جاگیرداروں کو خرید کر پورے علاقے کو گروی رکھا ہے


کسی نے پوچھا بلوچوں کو اپنے حقوق کیوں نہیں مل رہے آخر ایسی کیا بات ہے جسکی وجہ سے بلوچ عوام کو اس قدر نظر انداز کیا جارہا ہے.

سب سے بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ بلوچ کی اکثر آبادی اس بات سے ہی نابلد ہے کہ حقوق کہتے کسے ہیں چند لوگ سنی سنائی باتوں میں آکر حقوق کی بات تو کرتے ہیں کہ ہمارے بھی کچھ حقوق ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے حقوق ہیں کیا ؟ ہمیں کب ، کیسے اور کن حقوق کا مطالبہ کرنا چاہیے. یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے حقوق نہیں مل پاتے.اب آتے ہیں  سوال کی طرف ، 
          "بلوچوں کو اپنے حقوق کیوں نہیں مل رہے ؟

اگر آپ اس سوال پر غور کریں تو آپ کو بہت کچھ سمجھ آجائے گا اب یہی سوال مگر دوسرے انداز میں کیا جائے گا ذرا غور کرنا
    " بلوچ عوام اپنے حقوق کیوں نہیں لے سکتی؟

اصل بات تو یہ ہے حقوق دیے نہیں جاتے لیے جاتے ہیں بہت مشکل سے ایسے لوگ ملیں گے جو حقوق کو امانت سمجھ کر خود دینے پہنچ جاتے ہیں مگر اکثریت حقوق دیتی نہیں ، جیسے کسی شخص کے پاس دکاندار کےغلطی سے 200 روپے زیادہ آجائیں تو بہت ہی کم لوگ ہونگے وہ 200 روپے جاکر واپس کردیں گے اکثریت تو بہت خوش ہوتی ہے کہ چلو کام بھی ہوگیا 200 بھی بچ گئے .. یہی حال ہے ہمارے حکمرانوں کا بھی عوام کےحقوق  دیکھ کر انکی بانچھیں کھل جاتی ہیں خوشی سے لاریں بہنے لگتی ہیں کہ آج جیب گرم ہونے کا موقع مل گیا.

معذرت کے ساتھ جو نام نہاد بڑے بڑے لوگ حقوق کے علمبردار ہیں وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ یہ اپنے حقوق لینے کیلئے اکھٹے ہوجائیں وہ کبھی بھی عوام کو حقیقت نہیں بتائیں گے کہ تمہارا آئینی حق کیا ہے اور حقوق لینے کا قانونی طریقہ کیا ہے. عوام کی اکثریت تو بچاری اپنے حقوق تک نہیں جانتی ،، کچھ دوست میری بات سے اختلاف کریں گے ان سے صرف اتنا کہنا ہے آپ ان نام نہاد حقوق کے علمبرداروں سے جاکر ایک سوال تو کریں کہ اربوں کھربوں کے مالک ہونے کے باوجود ہمارے لیے تعلیمی شعور کا کوئی کام تو دکھائیں آپ نے عوام کو تعلیمی شعور دینے کیلئے کیا کچھ کیا ہے ؟ اور کچھ نہ دیتے کم از کم ہمیں تعلیم تو دیتے تاکہ ہمیں شعور تو آتا کہ ہمارے حقوق کیا ہیں مگر وہ ایسا کیوں کرتے وہ یہ کیوں چاہیں گے کہ ہماری چودھراہٹ ختم ہو اگر ہم نے اپنی عوام کو شعور دیا تو ہمیں سائیں سائیں کون کہے گا ہمارے نعرے لگانے کیلئے اپنا وقت برباد کون کرے گا.

حقوق ملا نہیں کرتے حقوق حاصل کیے جاتے ہیں چھینے جاتے ہیں اور چھننے کیلئے متحد ہوکر قدم سے قدم ملا کر چلنا پڑتا ہے جب تک ِ پاکستان کے باشندے بلوچ ، پٹھان ، پنجابی، سندھی وغیرہ کی بجائے عوامِ پاکستان نہیں بن جاتے تب تک حقوق ملنا تو دور کی بات حقوق لینا بھی مشکل ہے..

تمہارا اتحاد تمہاری قومیت کیلئے خطرہ نہیں مگر تمہاری بھوک ، جہالت تمہاری بدامنی تمہاری بربادی ہے. جب تعلیم ہوگی امن ہوگا بھوک مٹ جائے گی تو تمہارے کلچر تمہاری ثقافت تمہاری پہچان زندہ نہیں بلکہ پھلے پھولے گی. بلوچ کسی پٹھان کا دشمن ہے نہ پٹھان کسی بلوچ کا اور نہ یہ دونوں کسی پنجابی و سندھی کے دشمن ہیں. تمہارے دشمن بھوک ، جہالت اور کرپٹ حکمران ہیں

ڈیرہ غازی خان بارات میں پیسوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون بھی لٹا دیئے گئے

ڈی جی خان ، بارات میں پیسوں کے ساتھ موبائل فون کی بارش کر دی باراتیوں سمیت راہ گیر بھی پیسے اور موبائل فون پکڑنے کی کوشش میں لگ گئے ڈیر...